بھٹکل:6؍مارچ(ایس اؤ نیوز)نوجوان لڑکی کے ساتھ فرار ہونے والےکولار ہوللی دیہات کی شری بھیم لنگیشور سیواآشرم کے دتاتریہ سوامی جی منگل کو مرڈیشور کے بستی میں نظر آنے کی مصدقہ خبر پر بدھ کو کولار پولس مرڈیشور پہنچی اور صبح سوامی جی اور لڑکی کو اپنی تحویل میں لے کر کولار روانہ ہوگئی ۔ خیال رہےکہ سوامی کے فرار ہونےکی خبریں ریاست بھر میں گرم تھیں اور میڈیا میں لڑکی کو ساتھ لے کر فرار ہونے کی خبروں سے بحث و مباحثہ جاری تھا۔

مرڈیشور پہنچ کر ساحل آن لائن کے نمائندے نے دیکھا کہ سوامی نے اپنا زعفرانی لباس اتار کر اپنی داڑھی بھی کٹوالی تھی اور اپنا حلیہ ایسا تبدیل کردیا تھا کہ سوامی کی طرح نہیں لگ رہے تھے وہ ایک فورچون کار پر سوار ہوکر اور لڑکی کو ساتھ لے کر مرڈیشور پہنچے تھے۔ خبر ملی ہے کہ مفرور سوامی جی 29فروری کو مرڈیشور پہنچے تھےاور ایک پرائیویٹ لاڈج میں قیام کیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ سوامی جی نے مرڈیشور حدود کے ایک موبائیل دکان سے نیا سم کارڈ خریدا تھا اور مرڈیشور میں ہی بیٹھ کر کولار سے لڑکی کی گمشدگی کے معاملے کو سلجھانے کی کوشش میں تھے مگر وہ معاملے کو نپٹانےمیں ناکام ہوئے۔
ادھر پولس سوامی جی کے موبائل نٹ ورک اور سوامی سمیت لڑکی کے موبائیل کالس کا پیچھا کرتےہوئےدونوں کے ٹھکانے کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوگئی اور سیدھے مرڈیشور پہنچ گئی۔
مرڈیشور میں ہی قیام کی کوشش : خبر ملی ہے کہ کولار کے شری بھیم لنگیشور کے بھگتوں سے آنکھ چھپا کر لڑکی کے ساتھ فرار ہونے والے دتاتریہ سوامی جی نے 3-4 دنوں تک مرڈیشور میں قیام کرنے کے بعد وہیں ایک گھر کرایہ پر لے کر لڑکی کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ اس کے لئے انہوں نے ایک مقامی شخص کو بیانہ بھی دیا تھا۔ سوامی نے مرڈیشور کے لوگوں سے اپنی حقیقت کو چھپا کر مرڈیشور میں ہی اپنی بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے کی بات بتائی تھی۔ان کا یہیں پر ایک آشرم شروع کرکے گوشالہ بنانے کے لئے بھی کچھ لوگوں سے بات چیت کرنے کی بات معلوم ہوئی ہے۔
کولار کے سوامی جی مرڈیشور میں قیام ہونےکی تصدیق ہوتے ہی کولار پولس کی جانکاری کے بعد مرڈیشور پولس لاڈج پہنچ کر منگل کی پوری رات سوامی جی اور لڑکی کو تحفظ فراہم کرتی رہی۔
بتایا گیا ہے کہ خودکشی کی امکانات کو دیکھتے ہوئے پولس نے رات بھر دونوں کے کمرے کا دروازہ کھلا رکھ کر حفاظت کی۔ سوامی کو جب پتہ چلا کہ اب بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے تو سوامی نے کہاکہ میڈیا والوں کو بلائیےمیں ان کے سامنے سب کچھ سچ بولنا چاہتا ہوں۔
میں سوامی نہیں ہوں: ریاست کےپورے ٹی وی چینلس ، اخبارات مجھے سوامی ، سنیاسی کے طورپر پیش کررہے ہیں،ان کو کس نے بتایا کہ میں سنیاسی ہوں ۔ ساحل آن لائن سے گفتگو کرتےہوئے سوامی نے بتایا کہ میں نے کسی کے ساتھ بھی غلط رویہ نہیں اپنایا۔ البتہ گزشتہ ایک ماہ سے متعلقہ لڑکی سے مجھے پیار ہوا جس کی بنا پر اس سے شادی رچانے والا ہوں۔ زعفرانی لباس کو ترک کرکے ازدواجی زندگی میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہوں۔
خبر ملی ہے کہ دیر رات 3بجے کے قریب سوامی کے رشتہ دار جب سوامی کو ڈھونڈتے ہوئے مرڈیشور پہنچے تو سوامی نے ڈرامہ کھیلتے ہوئے چینخ و پکار شروع کردی کہ مجھے کیوں یہاں باندھ کر رکھا گیا ہے، مجھے پولس اسٹیشن کیوں نہیں لے جاتے، پولس مجھے کیوں ہراساں کررہی ہے تو پولس نے ان کو مطمئن کرتے ہوئے اندر کمرے میں لے گئے۔
50لاکھ روپیوں کی لالچ : لاڈج کے کمرے میں ہی بیٹھ کر کچھ افراد سے کہتے ہوئے سنا گیا کہ میرے پاس 50لاکھ روپئے ہیں، پولس اور دیگر لوگ لوٹ لیں گے ، کسی طرح مجھے یہاں سے نکلوائیے، میں تمہاری مدد کبھی نہیں بھولونگا، اور اس کے بدلے تمہاری بھی مدد کرونگا۔ لوگوں نے جب پلٹ کر پوچھا کہ رقم کہاں ہے تو سوامی جی بات بدلنے لگے، وہیں بیٹھ کر کولار کے رکن اسمبلی اور وزیرا علیٰ کے ایک خاص شخص سے رابطہ کرنے کی سوامی کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔
میں سوامی کے ساتھ رہونگی: کولار سے سوامی کے ساتھ بھاگ کر مردیشور پہنچنے والی لڑکی نے ساحل آن لائن کو بتایا کہ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا ہے ، میں سوامی کو پسند کرکے یہاں آئی ہوں، انہی سے میں شادی بھی کروں گی۔ اگر پولس مجھے میرے گھر والوں کے سامنے حاضر کرتی ہے تو میں اپنے گھر والوں کوم شادی کے متعلق بتاؤنگی۔ سوامی سے پوچھا گیا کہ اگر لڑکی کے گھروالے لڑکی کو تمہارے ساتھ بھیجنے پر راضی نہیں ہوئے تو کیا ہوگا؟ ۔ جواب میں سوامی نےکہاکہ میں نے پیا ر کے لئے اپنی سوامی کی روایت کو خیر آباد کیا ہے، میں نے لڑکی کے ساتھ شادی بھی کی ہے، اس کے باوجود وہ میرے ساتھ نہیں آتی تو یہ میری بدقسمتی ہوگی ، میں کیا کرسکتاہوں۔